رابرٹ کیوساکی کی یہ کتاب محض ایک کہانی نہیں، بلکہ دولت کمانے اور اسے برقرار رکھنے کے فلسفے پر مبنی ایک مکمل گائیڈ ہے۔ مصنف نے اس کتاب میں اپنے بچپن کے تجربات کو دو مختلف کرداروں کے ذریعے بیان کیا ہے:
غریب باپ (Poor Dad): جو رابرٹ کے اپنے والد تھے، اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ایک سرکاری افسر تھے، لیکن عمر بھر مالی مشکلات کا شکار رہے۔ ان کا ماننا تھا کہ "اچھی تعلیم حاصل کرو تاکہ کسی اچھی کمپنی میں نوکری مل سکے۔"
امیر باپ (Rich Dad): جو ان کے دوست کے والد تھے، وہ زیادہ پڑھے لکھے تو نہیں تھے لیکن کاروباری سوچ رکھتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ "ایسی تعلیم حاصل کرو کہ تم خود اپنی کمپنی بنا سکو اور لوگ تمہارے لیے کام کریں۔"
کتاب کے اہم نکات
اثاثے (Assets) بمقابلہ واجبات (Liabilities): کتاب کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ امیر وہ ہے جو اثاثے خریدتا ہے (جو آپ کی جیب میں پیسہ لائیں، جیسے پراپرٹی یا کاروبار) اور غریب وہ ہے جو واجبات اکٹھی کرتا ہے (جو آپ کی جیب سے پیسہ نکالیں، جیسے مہنگی گاڑیاں یا قرض)۔
مالیاتی تعلیم کی اہمیت: مصنف کے مطابق سکول ہمیں نوکر بننا سکھاتے ہیں، پیسہ کمانا نہیں۔ یہ کتاب سکھاتی ہے کہ پیسے کے لیے کام کرنے کے بجائے "پیسے سے اپنے لیے کام کیسے کروایا جائے"۔
خوف اور لالچ پر قابو: زیادہ تر لوگ خوف (بل ادا کرنے کا ڈر) اور لالچ (زیادہ خرچ کرنے کی خواہش) کے چکر میں پھنس کر "چوہا دوڑ" (Rat Race) کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کتاب اس چکر سے نکلنے کا راستہ بتاتی ہے۔
یہ کتاب آپ کو کیوں پڑھنی چاہیے؟
اگر آپ اپنی مالی حالت بدلنا چاہتے ہیں، نوکری کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری کے گر سیکھنا چاہتے ہیں، اور یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ دنیا کے امیر ترین لوگ ایسا کیا جانتے ہیں جو عام آدمی کو معلوم نہیں، تو یہ کتاب آپ کے لیے ایک بہترین آغاز ہے۔
خلاصہ: "امیر باپ غریب باپ" آپ کو یہ نہیں بتاتی کہ کتنا کمانا ہے، بلکہ یہ سکھاتی ہے کہ جو کمایا جائے اسے بچا کر دولت میں کیسے بدلا جائے۔
صفحات : 336