سعادت حسن منٹو کی شاہکار تحریروں پر مشتمل یہ کلیات کا دوسرا حصہ ہے جو ادبی اہمیت سے بھرپور ہے۔ اس میں منٹو کے مشہور شخصی خاکے، لاجواب افسانے اور ان کی نایاب تحریریں شامل کی گئی ہیں۔ اس جلد میں تلخ ترش اور شیریں، گنجے فرشتے، لاؤڈ سپیکر اور سیاہ حاشیے کے لازوال مضامین و خاکے شامل ہیں۔ منٹو نے جن شخصیات کے خاکے کھینچے ہیں، ان کے گناہ اور ثواب دونوں کو انتہائی ایمانداری سے پیش کیا ہے۔ ان کے افسانے تقسیمِ ہند کے المیے اور انسانی درندگی کی ایسی تصویر کشی کرتے ہیں جو روئے روئے کو کانپ دیتی ہے۔ یہ مجموعہ منٹو کی بصیرت اور ان کے بے باک قلمی سفر کی اکمل ترین گواہی دیتا ہے۔ ان کے کاٹ دار جملے اور طنز و مزاح کا انداز قاری پر سحر طاری کر دیتا ہے۔ خاکہ نگاری اور افسانہ نگاری کے فن کو باریکی سے سمجھنے والوں کے لیے یہ حصہ ایک ٹیکسٹ بک کا درجہ رکھتا ہے۔ اردو ادب کے اس لازوال سرمایہ کو اپنی ذاتی لائبریری کا حصہ بنانا ایک فخر کی بات ہے۔ منٹو شناسی کے سفر کو مکمل کرنے کے لیے اس جلد کا مطالعہ بے حد ضروری ہے۔