سعادت حسن منٹو کی تحریروں کے اس چوتھے اور اہم حصے میں ان کے ناولز، ڈرامے اور مطبوعہ و غیر مطبوعہ افسانے شامل ہیں۔ اس جلد کے نمایاں اور مشہور فن پاروں میں بادشاہت کا خاتمہ، دھواں، انارکلی، شکاری عورتیں اور نمرود کی خدائی شامل ہیں۔ یہ کتاب منٹو کی ہمہ جہت تخلیقی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ وہ صرف افسانہ ہی نہیں بلکہ ڈرامہ اور ناول بھی بے مثال لکھتے تھے۔ اس میں ان کے وہ ڈرامے اور ڈرامائی کہانیاں ہیں جو ان کے فکر کے مختلف زوایوں کو سامنے لاتی ہیں۔ منٹو نے ان تحریروں میں بھی انسانی تعلقات اور معاشرتی تضادات پر کھلم کھلا اور نڈر کر بات کی ہے۔ غیر مطبوعہ مواد کی شمولیت کی وجہ سے یہ جلد منٹو کے محققین اور شائقین کے لیے انتہائی خاص ہے۔ کہانی کا پلاٹ، کردار نگاری اور اس کا انجام قاری کو چونکا دینے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ یہ کتاب منٹو کی ادبی کائنات کا ایک انتہائی قیمتی اور نایاب گوشہ سامنے لاتی ہے۔ اردو ادب اور بالخصوص منٹو کے فنی سفر کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے اس کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ ادب کی دنیا کے اس نایاب تحفے کو آج ہی اپنی بک شیلف کی زینت بنائیں۔