یہ کتاب دراصل ’عنکبوت‘ کی کہانی نہیں، بلکہ اس کہانی کا ایک دوسرا رخ ہے جسے لفظوں کے ساتھ ساتھ وقت، محنت اور خاموش لگن سے تراشا گیا ہے۔
عام طور پر یہ مانا جاتا ہے کہ پاکستانی قارئین ناول کے ساتھ تصاویر (Illustrations) کو زیادہ پسند نہیں کرتے، کیونکہ تصویر قاری کے تصور کی پرواز کو محدود کر دیتی ہے۔ میں اس نکتے سے اختلاف نہیں کرتی، بلکہ اسے بخوبی سمجھتی ہوں۔ شاید اسی لیے یہ فیصلہ کرنا میرے لیے آسان نہیں تھا، مگر اس کے باوجود یہ بک لیٹ بنانا میری ایک دیرینہ خواہش تھی۔
بطور لکھاری، انسان ہمیشہ کچھ نیا کرنے کی جستجو میں رہتا ہے۔ جب سے میں نے قلم تھاما، میرا یہ خواب تھا کہ میں ایسی کتابیں سامنے لاؤں جو صرف پڑھی نہ جائیں بلکہ محسوس کی جائیں، دیکھی جائیں اور جنہیں دیکھ کر اچھا لگے۔ پہلے سوچا کہ یہ تجربہ اگلے کسی پروجیکٹ میں کروں گی، پھر خیال آیا کہ ’ابھی کیوں نہیں؟‘ اور بس، اسی ایک سوال نے اس خیال کو حقیقت کا روپ دے دیا۔
یہ بک لیٹ محض تصویروں کا مجموعہ نہیں، بلکہ کئی دن اور راتوں کی انتھک محنت کا نچوڑ ہے۔ ہر تصویر اور ہر زاویے کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ آپ ’عنکبوت‘ کی فضا، اس کی تاریکی اور اس کے کرداروں کی اندرونی کشمکش کو محسوس سکیں۔ یہ تصاویر کوئی حتمی شکل نہیں ہیں۔ عنکبوت کی روح آج بھی لفظوں میں ہی سانس لیتی ہے۔ اگر یہ کتاب آپ کے تصور سے مختلف ہو تو اسے اعتراض نہ سمجھیے گا، یہ بس ہماری کوشش ہے۔
اس مشکل مگر خوبصورت سفر میں ڈیزائنر ماہ زیب میری برابر کی شریک رہی ہیں۔ ہم نے کئی کئی گھنٹے لگاتار کام کیا، تصویریں بنائیں، انہیں بہتر کیا اور بار بار کی کانٹ چھانٹ کے بعد اس معیار تک پہنچے جس کی مُجھے تلاش تھی۔
اسی طرح، علی میاں پبلشرز کا شکریہ ادا کرنا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے ہمیشہ کی طرح میرے ہر نئے خیال اور ہر خواہش کو ناصرف سمجھا بلکہ اسے بہترین طریقے سے پایۂ تکمیل تک پہنچانے میں میرا بھرپور ساتھ دیا۔ ان کے تعاون اور کبھی ’ناں‘ نہ کہنے کے رویے نے مُجھے یہ حوصلہ دیا کہ میں بے فکر ہو کر اپنے کام میں جدت لا سکوں۔
یہ بک لیٹ ہمارا پہلا تجربہ ہے، اور ان شاء اللہ آنے والے وقت میں میری ہر کتاب کے ساتھ ایسی ہی ایک بک لیٹ ہوگی، جو پہلے سے بھی زیادہ بہتر اور جاندار ہوگی۔ اس کام پر ہمارا وقت، پیسہ اور سب سے بڑھ کر ہماری روح لگی ہوئی ہے۔ یہ کچھ جھلکیاں ہیں جنہیں آپ دیکھ سکتے ہیں۔