{"product_id":"shadi","title":"Shadi","description":"\u003ch1\u003e\u003cspan\u003eشادی\u003c\/span\u003e\u003c\/h1\u003e\n\u003ch2\u003e\u003cspan\u003e  شادی بک \u003c\/span\u003e\u003c\/h2\u003e\n\u003ch3\u003e\u003cspan\u003eتعارف\u003c\/span\u003e\u003c\/h3\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eیہ کتاب ہر شادی شدہ جوڑے یا وہ افراد جو شادی کے بندھن میں بندھنے جارہے ہیں .اس کے لیے مفید اور ضروری ہے ۔ اس کتاب کا موضوع ایک شادی شدہ جوڑے کے درمیان تعلقات کار کی سائنس ہے۔ کہ وہ کیوں کر ایک کامیاب زندگی گزار سکتے ہیں۔ جس میں نہ صرف ان کی ازدواجی زندگی پر لطف ہو بلکہ پورے خاندان کے لیے۔ یہ جوڑا خوشی کے احساس کی خوشبو ثابت ہو۔ مرد عورت کا ایک وہ سماجی رستہ ہوتا ہے۔ جو کسی بھی معاشرے کی بنیاد بنتا ہے ۔ہم نے اپنی اس کتاب کو عورت کی عظمت سے ہی شروع کرتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eتاکہ جن خواتین کوشکوہ ہے کہ آج عورت کی اہمیت کو نظرانداز کیا جارہا ہے۔ ان کا شکوہ بھی نہ رہے۔ اور خصوصا مردوں کو اس بات کی طر ف توجہ دلائی جا سکے۔ کہ صف نازک کی کیا عظمت و اہمیت ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eعورت کا معاملہ بڑا نازک ہے۔ اتنا نازک اورلطیف کہ \u003ca href=\"https:\/\/ur.wikipedia.org\/wiki\/%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF_%D8%A8%D9%86_%D8%B9%D8%A8%D8%AF_%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81\" target=\"_blank\"\u003eنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم\u003c\/a\u003e کی آخری وصیتوں میں بھی اس کے ساتھ حسن سلوک کا تذکرہ موجود ہے۔ انسان فطرتا اجتماعیت پسند ہے۔ اورشادی ایک ایسا دینی فریضہ ہے۔ جس سے انحراف انتہائی مشکل ہے۔ اور انسانوں کے لئے نقصان دہ بھی۔ اس کے ذریعہ ہی ایک انسان دوسرے انسانوں کی خوشی و سعادت کے لئے دوڑ دھوپ کی لذت محسوس کر سکتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003ch4\u003e\u003cspan\u003eشادی کی اہمیت کے بارے میں ایک بزرگ کا قول\u003c\/span\u003e\u003c\/h4\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eشادی کی اہمیت کے بارے میں ایک بزرگ کا قول بڑا سبق آموز ہے خصوصا ان لوگوں کے لئے جو شادی کی مخالفت کرتے ہیں کہ ’’ اگر میری زندگی کا ایک دن بھی باقی ہو تو میں شادی شدہ ہو\u003c\/span\u003e\u003cspan\u003e \u003c\/span\u003e\u003cspan\u003eکر مرنا پسند کروں گا۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاکثر یہ بات مشاہدے میں آئی ہے ۔کہ شادی کے ابتدائی دنوں میں میاں بیوی کے درمیان جو الفت و محبت کے جذبات موجود ہوتے ہیں۔ وہ دن گزرنے کے ساتھ سرد مہری میں تبدیل ہونے لگتے ہیں ۔ اگرچہ اس بات کا اطلاق تمام شادی شدہ جوڑوں پر نہیں کیا جاسکتاہے۔ تاہم ایسے مردخواتین کی تعداد بھی کم نہیں۔ جوازدواجی زندگی میں رفیق حیات کے درمیان سرد مہری کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں۔ اکثر یہ بھی دیکھا گیا ہے۔ کہ سردمہری اس حدتک بڑھ جاتی ہے ۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eکہ دونوں ایک دوسرے کی ضروری باتوں کا جواب بھی صرف ہوں،۔ہاں ہی میں دیتے ہوئے نظر آتے ہیں اور یوں لگتا ہے۔ کہ ایک چھت کے نیچے اورایک ہی چاردیواری میں زندگی بسر کرنے کے باوجود ان میں اجنبیت کی وہ دیوار کھڑی ہوتی ہے ۔جیسی کہ کسی ریلوے اسٹیشن کے ویٹنگ روم میں بیٹھ کر۔ ٹرین کی آمد کا انتظار کرنے والے دومسافروں کے مابین حائل ہوتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003ch5\u003e\u003cspan\u003eازدواجی زندگی\u003c\/span\u003e\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eذہنی ہم آہنگی ، ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں بھرپور شرکت اورالفت و محبت کے علاوہ باہمی اعتماد کی بنیادوں پر ہی قائم رہ سکتی ہے۔ اگرچہ ایسا شاید ہی کوئی شا دی شدہ جوڑا ہو ۔جو یہ کہے کہ ان کے درمیان کبھی تکرار نہیں ہوئی،۔کبھی لڑائی جھگڑا نہیں ہوا یا کبھی بھی اختلافِ رائے کی نوبت نہیں آئی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eازدواجی زندگی میں سردمہری کیوں پیدا ہوتی ہے ۔ اس کی دو وجوہات بھی ہو سکتی ہیں، ایک تو ناپسند یدہ تکلیف دہ باتوں یا حرکات کا باربار دہرایا جانا اور دوسرا بھید یا خود کو وقت کے ساتھ ڈھالنے کی خواہش کا فقدان، جہاں تک پہلی وجہ ہے وہ مزاج آشنائی کی کمی کے باعث جنم لیتی ہے، دیکھا گیا ہے کہ بعض اوقات ایک فریق نہایت حساس طبیعت کا مالک ہوتا ہے تو دوسرا جوشیلی طبیعت \u003c\/span\u003e\u003cspan\u003eکا ، اس لئے یہ کہا جا سکتا کہ درست مزاج آشنائی نہ ہو تب کوئی بھی بات کسی ایک فریق کے لئے دوسرے فریق سے سردمہری کا سبب بن سکتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003ch6\u003e\u003cspan\u003eمیاں بیوی ایک گاڑی کے دوپہئے ہیں\u003c\/span\u003e\u003c\/h6\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eمیاں بیوی ایک گاڑی کے دوپہئے ہیں اور اگر دونوں ایک دوسرے کے سہارے زمانے کی تندو تیز آندھی کا سامنا کرتے ہوئے ہم آہنگی سے اپنی زندگی کا سفر رواں دواں رکھیں تو ٹھیک ہے ورنہ ایک دوسرے سے جلی کٹی کہتے رہنا انہیں سرد مہر ی کی جانب راغب کرسکتا ہے۔ اب یہ میاں بیوی کی سوجھ بوجھ پر منحصر ہے کہ زندگی کی جھمیلوں اور الجھنوں سے چند لمحوں کے لئے جان چھڑاکر پیار سے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کرلیا کریں۔ محبت بھرے گلے شکوے کرلیا کریں اور غم دوراں کو نظر انداز کرکے درگزر سے کام کرلیا کریں تاکہ غمِ حیات ان کی ازدواجی زندگی پرمنفی اثرنہ ڈال سکے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہی سب کچھ جاننے اور سیکھنے کے لئے ہم اپنے قارئین کی خدمت میں یہ کتاب پیش کررہے ہیں یہ کتاب صرف خود پڑھنے کی نہیں بلکہ اپنے ارد گرد لوگوں کو اس کی ترغیب دی جانی چاہیے تاکہ ہم ایک گھر پھوٹنے والی خوشی کو پورے معاشرے میں عام کرسکیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Darul Shaour","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46822107480253,"sku":null,"price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0526\/6289\/4781\/files\/SHADI-1_480x_0f0f492e-bfda-43d4-be6e-ac0e0aa5f017.webp?v=1779779161","url":"https:\/\/thegmart.net\/products\/shadi","provider":"G Mart","version":"1.0","type":"link"}