{"product_id":"khushhali-ki-science","title":"Khushhali Ki Science","description":"\u003ch1\u003e\u003cspan\u003eخوشحالی کی سائنس\u003c\/span\u003e\u003c\/h1\u003e\n\u003ch2\u003e\u003cspan\u003eThe Science of Getting Rich خوشحالی کی سائنس\u003c\/span\u003e\u003c\/h2\u003e\n\u003ch3\u003e\u003cspan\u003eتعارف\u003c\/span\u003e\u003c\/h3\u003e\n\u003cp\u003eThe Science of Getting Rich خوشحالی کی سائنس\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eجب آپ کسی ایسی کتاب کو دیکھتے ہیں .جس کا عنوان ہو ’’امیر ہونے کی سائنس‘‘ اور آپ کو یہ شک گزرے. کہ یہ کسی قابلِ اعتراض ترغیب دینے والے مصنف نے لالچ کے حوالے سے لکھی ہے. تو آپ کو معاف کیا جا سکتا ہے۔اپنے ذہن کو کھلا رکھنا بہت اہم ہے. تاہم ویٹلزکی یہ کلاسیک ایک ایسے نظریاتی فلسفے کی کتاب ہے. جو خالصتاََ زمینی مسائل پر بحث کرتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکائنات کے وحدانی نظریہ کے مطابق، جو اس کتاب کی بنیاد ہے.یہ کتاب کہتی ہے .کہ کائنات اور اس میں موجود ہر چیز ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eیہی مذہب اور مشرقی فلسفے کی بنیاد بھی ہے اور ویٹلز کے دلائل کے مطابق یہ ہی ڈیکارٹ، \u003ca href=\"https:\/\/unesdoc.unesco.org\/ark:\/48223\/pf0000046654\" target=\"_blank\"\u003eاسپین نوزا\u003c\/a\u003e، لیبنیز، شوپنہار، ہیگل، ایمرسن اور دیگر مغربی فلسفیوں کے کام کی بنیاد ہے ۔ جنہیں وہ کئی سالوں تک پڑھتا رہا ہے۔ یہی نئے دور کے گرجا گھر کا\u003ca href=\"https:\/\/darulshaour.com\/shop\/the-monk-who-sold-his-ferrari-book-by-robin-sharma-robin-sharma-books-self-help-books-best-self-help-books-the-monk-who-sold-his-ferrari-book-in-urdu-the-monk-who-sold-his-ferrari-book-by-robin-sharma\/\" target=\"_blank\"\u003e اصول\u003c\/a\u003e ہے جو بلاشبہ انسان کی بہتری کے لیے بہت بھاری اور مذہبی اصولوں کے لیے بہت ہلکا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003ch3\u003e\u003cspan\u003eقدیم مذہبی نظرئیے\u003c\/span\u003e\u003c\/h3\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eجبکہ قدیم مذہبی نظرئیے کے مطابق غربت کا تعلق روحانیت یعنی مذہب سے تھا. جبکہ ویلس ڈی لوئس ویٹلز کے نظریات کی بنیاد فطری کثرت سے ہے۔ وہ اس پر منطقی انداز میں دلیل سے کہتا\u003c\/span\u003e\u003cspan\u003e ہے .کہ انسان معاشی حوالے سے محنت کئے بغیر کچھ حاصل نہیں کر سکتا. در حقیقت اس کائنات کا ارتقا بھی اسی بات میں پوشیدہ ہے .کہ ہم جائز ذرائع سے دولت حاصل کریں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eدولت کا وسیلہ کیا ہے؟ دولت مندی پر کتابیں لکھنے والے تمام مصنفین کا ماننا ہے. کہ ’دولت کا ذریعہ‘ چیزیں نہیں بلکہ انسانی سوچ ہے۔ نپولین ہِل نے اس ذریعے کو لامحدود ذہانت کہا ہے، دیپک چوپڑا نے اسے ’خالص امکانی قوت‘ کا نام دیا ہے .جبکہ ویلس ڈی لوئس ویٹلز اور کیتھرین پونڈر اسے بے صورت مادے کا نام دیتے ہیں. جس سے تمام ’مادوں‘ کا چشمہ پھوٹتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003ch4\u003e\u003cspan\u003eمصنف ویلس ڈی لوئس ویٹلز کا دعویٰ\u003c\/span\u003e\u003c\/h4\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eاس کتاب کے مصنف ویلس ڈی لوئس ویٹلز کا دعویٰ یہ ہے .کہ اگر آپ ایک خیال کو پیش کرتے ہیں .تو ایک دن اسے مادی صورت ضرور ملتی ہے۔اگر آپ کسی چیز کو بار بار تصور کرتے ہیں تو ایک دن وہ چیز موجودہ ذرائع پیداوار سے آپ کے سامنے ’موجود‘ ہوتی ہے۔یہ آپ کی ضروریات کو پورا کرنے کا ایک خفیہ شارٹ کٹ ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eتاہم انسان نے اپنی پوری تاریخ میں اسے غلط طریقے سے حاصل کرنے کی کوشش کی ہے .یعنی دستیاب چیزوں سے وسائل پیدا کرنے کی کوشش میں لگا رہا ہے۔اس کتاب کا مصنف کہتا ہے کہ ہم نے خدا کی طرح کام کرنا شروع کیا ہے. یعنی جیسے وہ ’کچھ نہیں‘ سے سب کچھ پیدا کرتا ہے. ایسے ہی ہم اپنی سوچ سے پیدا کریں گے۔ دماغ کی سائنس سے ہم دیکھیں گے کہ ہم چیزوں کو کتنی آسانی اور پرفیکٹ انداز میں صرف ’بے صورت‘ خیال سے پیدا کریں گے یا بنائیں گے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003ch4\u003e\u003cspan\u003eکتاب کا تعلق عمل سے ہے\u003c\/span\u003e\u003c\/h4\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eیہ ایک محض فلسفیانہ یا نظریاتی کتاب نہیں ہے.اس کا تعلق عمل سے ہے. یہ ان خواتین وحضرات کے لیے لکھی گئی ہے. جنہیں پیسوں کی اشد ضرورت ہے. اوروہ چاہتے ہیں کہ پہلے خوشحال ہوجائیں اور خوشحالی کا فلسفہ بعد میں حاصل کریں۔ یہ ان لوگوں کے لیے ہے جنہیں مابعد الطبیعاتی علوم حاصل کرنے کا نہ تو وقت ملا ہے .اور نہ ہی اس کے لیے وسائل اورمواقع دستیاب ہوئے ہیں۔ وہ نتائج حاصل کرنا چاہتے ہیں. اور وہ خوشحالی اور سائنس کا ایسا نچوڑ چاہتے ہیں.جس پر بلا تحقیق عمل کرکے وہ نتائج حاصل کرلیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003ch5\u003e\u003cspan\u003eبنیادی باتوں کو بالکل اسی طرح سچ مان لیں\u003c\/span\u003e\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eقارئین سے توقع ہے کہ وہ اس کتاب کی بنیادی باتوں کو بالکل اسی طرح سچ مان لیں گے جیسے وہ مار کونی یا ایڈیسن کی طرف سے دئیے گئے برقیات کے بارے میں حقائق کو تسلیم کرلیتے ہیں وہ ان باتوں کو سچ مان کر ان پر بغیر کسی خوف کے بلاتاخیر عمل کریں گے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eاس کتاب پر عمل کرنے والا ہر فرد یقینا خوشحال ہوجائے گا کیونکہ اس میں پیش کردہ نسخہ بالکل سائنس ہے ا ور سائنس بلا \u003c\/span\u003e\u003cspan\u003eشک وشبہ نتیجہ خیز ہوتی ہے۔ تاہم ان لوگوں کے لیے جو یقین کی منطقی بنیاد پانے کے لیے فلسفیانہ نظریات جاننا چاہتے ہیں، میں چند ایک ماہرین فن کا حوالہ دینا چاہوں گا:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکائنات کے بار ے میں “ہمہ اوست” یا وحدت لوجود کا نظریہ تمام مشرقی فلسفوں میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اس نظریہ میں یہ مانا جاتا ہے کہ اصل وجود صرف ایک ہی ذات کا ہے اور کائنات میں باقی جو کچھ بھی ہے وہ اسی ذات کے مختلف مظاہر ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003ch5\u003e\u003cspan\u003eخوشحالی کی سائنس کی فلسفیانہ توجیح\u003c\/span\u003e\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eیہ نظریہ گزشتہ دو صدیوں میں مغرب میں بھی بتدریج مقبولیت حاصل کرتا رہا ہے اور ڈیکارٹ، ایپی نوزا،لائیبنٹز، شوبن ہائر، ہیگل اور ایمرسن کی سوچ پر اس کا بہت اثر ہے۔ لہٰذا آپ میں سے جو خوشحالی کی سائنس کی فلسفیانہ توجیح چاہتا ہے اسے ہیگل اور ایمرسن کا مطالعہ کرلینا چاہیے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس کتاب کو لکھتے وقت میں نے حتی الامکان سادگی اور سلاست سے کام لیا ہے تاکہ تمام قارئین اس کو سمجھ سکیں۔ اس میں بیان کردہ لائحہ عمل ان نتائج سے اخذ کیا گیا ہے\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eجن پر فلسفہ پہنچا ہے ۔ اس کو اچھی طرح جانچا گیا ہے اوراس کا نتیجہ خیز ہونا تجربہ سے ثابت ہوچکا ہے۔ اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ نتائج کیسے اخذ ہوتے ہیں تو مذکورہ بالا فلسفیوں کی تحریروں کا مطالعہ کریں تاہم اگر آپ اس فلسفیانہ محنت کا صرف پھل کھانا چاہتے ہیں اور تفصیلات میں جانا غیر ضروری سمجھتے ہیں تو صرف اس کتاب کا مطالعہ کریں اور اس میں بتائے گئے طریقوں پر سنجیدگی سے عمل \u003c\/span\u003e\u003cspan\u003eکرکے خوشحالی کی منزل حاصل کرلیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Darul Shaour","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46822068158653,"sku":null,"price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0526\/6289\/4781\/files\/WhatsAppImage2026-05-25at17.37.13_1.jpg?v=1779776221","url":"https:\/\/thegmart.net\/products\/khushhali-ki-science","provider":"G Mart","version":"1.0","type":"link"}